|
پیغمبرِ اکرم حضرت محمّد(ص) بن عبداللّہ کی وفات کے بعد بعض بے ایمان اور اقتدار پر تسلّط جمانے کے لیے کوشاں افراد کے ذریعے بڑی سرعت سے جعلی حدیثیں گھڑنے کا رجحان پھیل گیا۔
یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ نبیٔ اکرم(ص) نے صحیح حدیثوں کو جعلی حدیثوں سے الگ کرنے کے لیے ہمیں جو محکم معیار دیا، وہ یہ ہے کہ حضور اکرم(ص) نے فرمایا:
"جو کچھ مجھ سے تمھارے پاس پہنچے اور وہ قرآن کے مطابق نہ ہو تو وہ میری کہی ہوئی بات نہیں۔"1
اِس واضح بیان میں حضور(ص) نے قرآنِ کریم کو جعلی احادیث سے صحیح احادیث کو الگ کرنے کی کسوٹی قرار دیا ہے۔
ایک جانب 'حدیثِ ثقلین' تمام اسلامی مذاہب کے علما کے نزدیک معتبر ہے، جسے مختلف عبارتوں اور صورتوں میں حضورِ اکرم(ص) سے روایت کیا گیا ہے۔
اِن میں سے ایک محمد بن عیسٰی ترمذی (متوفٰی 279ہجری) اپنی 'صحیح' میں اِس حدیث کو (جس میں قرآن و عترت یعنی اہلِ بیت کی دو وزنی بنیادوں پر تکیہ فرمایا گیا ہے، اِسی لیے یہ 'حدیثِ ثقلین' کے نام سے مشہور ہوئی) یوں بیان کیا ہے:
«قال رسول الله صلی الله علیه (و آله) و سلم: انّی تارک فیکم ما ان تمسّکتم لن تضلّوا بعدی، احدهما اعظم من الآخر: کتاب الله حبل ممدود من السّماء الی الارض و عترتی اهل بیتی و لن یفترقا حتی یردا علی الحوض فانظروا کیف تخلفونی فیهما» یعنی رسولِ اکرم(ص) نے فرمایا: "میں دو چیزیں تمھارے درمیان چھوڑے جا رہا ہوں۔ تم اگر اِن سے تمسّک رکھو گے تو میرے بعد کبھی گم راہ نہیں ہوگے۔ اِن میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ خدا کی کتاب آسمان سے زمین تک کھینچی ہوئی رسّی ہے اور دوسری میری عترت میرے اہلِ بیت ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس وارد ہوں۔ پس دیکھنا، میرے بعد تم اِن کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔"2
ابن عرفہ نے، جو نفطویہ کے نام سے مشہور ہیں اور علمِ حدیث کے نامور ماہر اور بزرگ محدّثین میں سے ایک ہیں، اپنی تاریخ میں، جو معنوی اعتبار سے کتاب 'احداث' میں مدائنی کے قول سے مطابقت رکھتا ہے، یوں لکھا ہے:
"صحابہ کی فضیلت کو بیان کرنے والی اکثر احادیث بنو امیّہ کی حکومت کے زمانے میں گھڑی گئی ہیں، اور ایسا اِس لیے ہوا کہ اِنھیں روایت کرنے اور بنانے والے لوگ خلافت کا تقرّب چاہتے تھے، اُن کی خواہش تھی کہ وہ بنو امیّہ کے منظورِ نظر قرار پائیں۔ اموی بھی چاہتے تھے کہ اِس ذریعے سے وہ بنو ہاشم کے فخر کو خاک میں ملائیں۔"3
اِس سلسلے میں صحابہ و تابعین کے ایک گروہ نے معاویہ (بنو امیّہ کی حکومت کے بانی) کی آواز پر لبّیک کہا اور اُس کی وسیع و عریض حکومت سے اپنی خواہش کے مطابق توشے اٹھائے۔ البتّٰہ ایک چھوٹی جماعت ایسی بھی تھی جس نے اپنی شرافت اور دین داری کی بنیاد پر معاویہ کا ساتھ نہیں دیا۔ ایسے لوگ مختلف سزاؤں، مثلًا موت، جلاوطنی اور اسیری وغیرہ کا سامنا کرتے رہےاور اپنے جان ومال کو اپنے نصب العین، یعنی ایمان اور عقائدی فضیلتوں کی حفاظت پر قربان کرتے رہے۔ اِس ہول ناک جنگ کا نتیجہ ایک طرف تو یہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان ہزاروں جعلی حدیثیں پھیل گئیں اور اِس بات کا سبب بن گئیں کہ صحیح اسلام کی شناخت مشکل ہو کر رہ گئی اور دوسری طرف ہزاروں جاں نثار، پاک باز افراد نے بڑے مشکل حالات اور تکلیفوں کے ساتھ اپنی جان گنوا دی۔
تقریباً اِسی عہد میں مذہبی گروہ بندی اور متعدّد فرقے اور مذاہب کا آغاز ہوا، یہ امر اخبار و روایات گھڑنے کا ایک اَور اہم عامل بن گیا۔ یہ لوگ دین کے نام پر کام کر رہے تھے اور چوں کہ قرآن میں تحریف کی جرأت نہیں کر سکتے تھے، لہٰذا اُنھوں نے جعلی احادیث گھڑنی شروع کر دیں اور اپنے نظریے کی بنیاد پر اُنھیں قرآن کی تفسیر کے طور پر پیش کیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ راے عامّہ کو اپنے لیے ہموار کر سکیں۔
اِس مسئلے نےدوسری صدی میں زیادہ شدّت پکڑی اور یہ ایک ایسی خیانت تھی جس کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہا۔
_____________________________
1. Nahj-ol-Fasaha, introduction, p. 84.
2. Alhaghaegh, p. 40. Ekmal-ol-Din, vol. 1, p. 237. ; Da’erat-ol-Ma’aref Tashayyo’a, vol. 6.
3. The Role of Ayesheh in the History of Islam, vol. 3, p.p. 266-268.
|