|
|
||||||
|
|
|
|||||
|
|
"دین ایک حقیقت ہے" "اِنَّ الدّینَ لَواقِع" دین اور دین داری کے ساتھ افراد کے سلوک کا محور غالبًا ایک تسلسل سے مجہول عقائد پر یقین رکھنے اور مختلف قسم کے آداب و رسوم کی بنیاد پر ہوتا ہے اور اکثر عذاب کے خوف، نیک اعمال کی جزا کی امید، خوف اور احساسِ گناہ پر غلبہ پانے، نفسیاتی سکون حاصل کرنے یا معاشرتی و ثقافتی جذبات جیسے دلائل کے ذریعے اپنے عقائد کو تقویت دی جاتی ہے۔ 1 جب اِن لوگوں سے کبھی پوچھا جاتا ہے کہ: "خداوند کے وجود پر تم لوگوں کا اعتقاد کس بِنا پر ہے؟" اِن میں اکثر جواب دیتے ہیں کہ ایک اندرونی احساس اِن کے عقیدے کی بنیاد ہے، لیکن یہاں یہ نکتہ توجّہ کے قابل ہے کہ کیا حواس پر تکیہ کرتے ہوئے خداوند کو پہچانا جا سکتا ہے؟2 مولوی نے درجِ ذیل داستان میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ حسّیات اپنے محدود دائرے میں حقیقت کی شناخت پر قادر نہیں اور حقیقت کی شناخت شہود اور یقین کی بِنا پر حاصل ہوتی ہے۔ پیـل انـدر خانـه ای تـاریـک بـود
اُسے دیکھنے کے لیے لوگ امڈ پڑے اور اُس اندھیرے گھر میں داخل ہو گئے۔ چوں کہ تاریکی کی وجہ سے اُسے دیکھنا ممکن نہیں تھا اِس لیے ہر ایک اُس اندھیرے میں ہاتھ چلا رہا تھا۔ ایک شخص کے ہاتھ میں ہاتھی کی سونڈ آ گئی تو اُس نے کہا کہ ہاتھی تو پرنالے کی مانند ہے۔ ایک شخص کے ہاتھ میں کان آ گئے تو اُس نے کہا کہ ہاتھی تو پنکھے جیسا ہے۔ ایک آدمی کے ہاتھ پاؤں سے لگے تو اُس نے کہا میں نے ہاتھی کو دیکھا وہ بالکل ستون کی طرح ہے۔ ایک آدمی نے ہاتھی کی پشت کو چھوا تو کہنے لگا کہ ہاتھی تو بالکل ایک تخت لگتا ہے۔ اِس طرح ہر کسی کو جو بھی حصّہ ہاتھی کا ملا، وہ اُس حصّے کو ہاتھی سمجھ کر اِتراتا تھا۔ ہاتھی کے بارے میں ہر ایک کا نظریہ الگ تھا۔ ایک اُسے "دال" کہتا تھا تو دوسرا "الف۔" اگر اُن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک شمع ہوتی تو یقینًا اُن کی باتوں سے اختلاف ختم ہو جاتا۔ زمانے کی غفلت کے حجاب اور پردے اگر درمیان سے ہٹادیے جائیں تو نور کی جھلک میں حقیقت کی تجلّی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وہ منزل ہے جہاں حواس کے دائرۂ عمل کا فریم ٹوٹ جاتا ہے اور حقیقت اُس طرح، جیسا کہ وہ ہے، قابلِ مشاہدہ بن جاتی ہے اور شکّ و تردّد اور ہر قسم کے اختلافِ نظر کی جگہ علم اور یقین آ جاتا ہے۔ قرآنِ کریم میں خداوند کے فرمان کے مطابق "دین ایک حقیقت ہے،" لہٰذا دین کی حقیقت کو منکشف کرکے اُس کی شناخت حاصل کرنی چاہیے۔ عرفان حقیقتِ دین کی کیفیتِ شناخت کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت صلاح الدّین علی نادر عنقا پیرِ اویسی فرماتے ہیں: "عرفان لفظ 'عرف' بمعنیٔ 'شناخت' سے مشتق ہوا ہے، جس کا مطلب خداوند کی شناخت اور پوشیدہ علم اور ہستی کے اسرار کو دریافت کرنا ہے۔ عرفان پیغمبروں کا راستہ ہے، کیوں کہ انبیاے کرام نے حقیقتِ دین کو اپنی ذات کی حقیقت کی شناخت کے ذریعے منکشف کیا ہے، جو آخرِکار خداوند کی شناخت اور براہِ راست رابطے تک پہنچاتی ہے، اِسی لیے میں نے عرفان کو حقیقتِ دین کا نام دیا ہے۔"4
|
|||||
|
||||||
